Featured Post

Reconstruction of Religious Thought in Islam

The worst of creations with Good are those deaf, those dumb who do not use their intellect (Quran;2:18) . "And Allah gives another...

The Protocols of the Elders of Zion

The Protocols of the Elders of Zion
 بروتوكولات حكماء صهيون والمؤامرات
 "הפרוטוקולים של זקני ציון"
Read online or download WebDoc, PDF، اردو 

The Protocols purports to document the minutes of a late 19th-century meeting of Jewish leaders discussing their goal of global Jewish hegemony. Their proposals to engender such include subverting the morals of the Gentile world, controlling the world's economies, and controlling the press. The Protocols is still widely available today on the Internet and in print in numerous languages. The document reveals through the mouths of the Jewish leaders a variety of plans. For example, the Protocols includes plans to subvert the morals of the non-Jewish world, plans for Jewish bankers to control the world's economies, plans for Jewish control of the press, and - ultimately - plans for the destruction of civilization. The document consists of twenty-four "protocols". 
The text was translated into several languages and widely disseminated in the early part of the twentieth century. Henry Ford published the text in The International Jew, and it was widely distributed in the United States. In 1921, a series of articles printed in The Times claimed the text as forged.  The document 'The Protocols of the Elders of Zion' "הפרוטוקולים של זקני ציון"  surfaced in the Russian Empire, and was first published in 1903. 

’ایک وقت آئے گا جب ہم پوری دنیا پر قابض ہوجائیں گے۔ یہ تھوڑے سے عرصے میں نہیں ہوگا اس کے لیے شاید ایک دو صدی درکار ہو۔ ہم بے رحمی سے اپنے خلاف ہتھیار اُٹھانے والوں اور ہمارے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو قتل کریں گے۔ کسی بھی شے سے متعلق تمام اداروں بشمول خفیہ تنظیموں کو بھی موت کی نیند سلادیا جائے گا۔ موجودہ خفیہ تنظیمیں جنہوں نے ہماری بڑی خدمت کی ہے اور کررہی ہیں، ہم ان کو بھی ختم کردیں گے اور انہیں یورپ کے دوردراز علاقوں میں جلاوطن کردیں گے۔ فری میسن کے غیریہودی ممبران کے ساتھ بھی ہمارا یہی رویہ ہوگا کیونکہ یہ لوگ ہمارے بارے میں کافی معلومات رکھتے ہیں لیکن اگر مصلحتاً ہمیں ان سے صرف نظر کرنا پڑا تو بھی انہیں جلاوطنی کے خوف تلے رکھا جائے گا۔“ "

یہ اقتباس جس کتاب سے لیا گیا ہے اس کا مشہور نام ”پروٹوکولز“ ہے۔ ”Protocols“ دیکھنے میں تو وہ محض ایک عام سی کتاب لگتی ہے مگر یہ کئی اعتبار سے انوکھی ہے۔ ایک تو اس وجہ سے عام طورپر کسی کتاب کو ایک یا دو فرد لکھتے ہیں مگر اس کتاب کو یہودی داناؤں کی ایسی جماعت نے لکھا جو دنیا بھر سے منتخب کی گئی تھی۔ اپنے فن یعنی خفیہ منصوبہ بندی، فریب کاری، مکاری، سنگ دلی، بے رحمی اور اخلاقیات سے عاری پن میں اتنی نمایاں تھی اس کے ان ”اوصاف“ کو دوست دشمن سب مانتے ہیں۔ اس کتاب کو اس اعتبار سے بھی منفرد قرار دیا جائے گا اس میں دنیا کے لیے خیر کی کوئی بات نہیں ۔ اس میں جو کچھ تھا وہ بنی نوع انسان کے لیے شر ہی شر تھا۔ اس کے مصنفین نے اپنے لیے تو سب کچھ سوچ سمجھ کر ترتیب دیا لیکن غیر یہود کے لیے ان کم ظرفوں کے پاس سوائے بدخواہی کے کچھ نہ تھا۔ عام طورپر لکھی جانے والی کتابیں چھپنے کے لیے لکھی جاتی ہیں لیکن صہیونیوں کی پہلی اور آخری کوشش تھی یہ کسی بھی طرح منظرعام پر نہ آنے پائے۔ پھر سوال ہے یہ کتاب غیر یہود کے ہاتھ کیسے لگی؟ جس چیز کو سات پردوں میں چھپا کر رکھا گیا تھا وہ منظرعام پر کیسے آگئی؟ یہ داستان بڑی عجیب اور دلچسپ ہے۔
 یہ 1897ء کی بات ہے روسی خفیہ ادارے کی ”Glinka“ نامی ایک ایجنٹ فرانس میں کام کررہی تھی۔ اسے پتا چلا ”پروٹوکولز“ کی کاپی فرانس کے ”مزرایم لاج“ میں موجود ہے۔ اس وقت یہ لاج فرانس میں فری میسن کا ہیڈکوارٹر تھا۔ ”جلینکا“ ہاتھ دھو کر ان خفیہ دستاویزات کے پیچھے پڑگئی۔ اس نے لاج کے ایک ملازم کو تاڑا جس سے کام نکل سکتا تھا۔ ایک دن ملازم کو رقم کی ضرورت پڑی تو ”جلینکا“ نے فوراً 5,000 فرانک کی بھاری رقم دیدی ۔ اتنی چھوٹی چیز کی اتنی بڑی رقم ملتے دیکھ کر ملازم نے خفیہ طور پر کاپی ”جلینکا“ کو تھمادی۔ ”جلینکا“ نے کاپی ہاتھ میں آتے ہی اس وقت کے روسی دارالحکومت ”سینٹ پیٹرز برگ“ پہنچادی۔ یہودیوں کے چوٹی کے دانشور احتیاطی تدبیریں کرتے رہ گئے اور ان کے دشمن یہ دستاویزات لے اُڑے۔ ”جلینکا“ نے ایک کاپی اپنے پاس بھی رکھی۔ جب وہ اپنے آبائی ملک روس لوٹی تو اس نے ”Alexis Sukhotin“ نامی ایک سرکاری عہدیدار کوان دستاویزات کی ایک کاپی دی۔ اس نے اپنے دوست ”Sergius A. Nilus“ کو دے ڈالی۔ ”نائلس“ نے 1901ء میں پہلی بار کتابی شکل میں چھاپا جس کا عنوان تھا: ”The Great Within the Small“۔ اس زمانے میں یہ کتاب خفیہ چیزوں میں مقبول ترین تھی۔ روس میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد پیدا ہونے والے یہودی اثرورسوخ کی بنا پر اس کتاب کو کسی کے پاس دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم تھا۔ ”نائلس“ انقلاب آتے ہی روس سے بھاگ نکلا۔ 
1932ء میں یوگوسلاویہ میں جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے سے ”Gerald B.Winrod“ نامی ایک یورپی مصنف نے ملاقات کی۔ اس نے بتایا نائلس پختہ عقیدے والا عیسائی تھا اور انجیل مقدس پر کامل یقین رکھتا تھا۔ اس نے سمجھا قوم یہود کے داناؤں نے یہ منصوبے عیسائیت کے خاتمے کے لیے تیار کیے ہیں تو اس نے دنیائے مسیحیت کی آگاہی کے لیے خطرات مول لیے اور ان دستاویزات کو عبرانی زبان سے روسی زبان میں ترجمہ کر کے شائع کرنے کی ٹھان لی۔ نائلس کے خیال میں یہ منصوبہ عیسائیت کے خلاف سازش تھا لیکن ان کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے یہ سازش صرف عیسائی مذہب اور تہذیب کے خلاف نہیں، یہ تمام مذاہب اور تہذیبوں کے خلاف ایک بھیانک سازش ہے۔
 روسی زبان میں ”برٹش میوزیم لائبریری“ میں 10/ اگست 1905ء کو پہنچ گئی تھی لیکن اس کا پہلی مرتبہ انگریزی ترجمہ 1906ء میں ”Victor E. Marsden“ نامی ایک بہادر صحافی نے کیا اور پھر دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ قارئین! ”یہودی پروٹوکولز“ ان تجاویز، منصوبوں، مستقبل کی پیش بندیوں کا اور پیش گوئیوں کا مجموعہ ہے جنہیں ایک مخصوص ہدف کے لیے دنیا کے چوٹی کے دماغوں نے سالہا سال کی عرق ریزی کے بعد ترتیب دیا تھا۔ وہ ہدف کیا تھا؟ 
1897ء میں سوئزر لینڈ کے شہر ”باسل“ میں پہلی ”عالمی صہیونی کانفرنس“ جس میں یہ تجاویز پیش کی گئیں تھیں اس کے اختتام پر جب کانفرنس کے سربراہ اور جدید صہیونیت کے بانی”ڈاکٹر تھیوڈور ہرٹزل“ سے مستقبل کے ان منصوبوں کا خلاصہ پوچھا گیا تو اس نے ایک جملے میں اپنے اہداف کو سمیٹتے ہوئے کہا: ”میں زیادہ تو کچھ نہیں کہتا، بس اتنا کہتا ہوں آج سے پچاس سال کے اندر دنیا روئے ارض پر یہودی ریاست قائم ہوتا اپنی آنکھوں سے دیکھے گی۔“

 مشہور امریکی سرمایہ کار اور دانشور ”ہنری فورڈ“ نے 17 فروری 1921ء کو ”نیویارک ورلڈ“ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہاتھا:”ان پروٹوکولز کے بارے میں صرف اتنا کہنا کافی سمجھتا ہوں دنیا کا منظرنامہ حرف بہ حرف ان پیش بندیوں کے مطابق ہے جو اس کتاب کے مصنفین نے ترتیب دی تھیں۔“ پروٹوکولز میں جو منصوبے اور سازشیں ترتیب دی گئی تھیں وہ حیرت انگیز طورپر پوری ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ 
دنیا نے دیکھا ’ڈاکٹر تھیوڈور ہرٹزل“ کی بات سچ ثابت ہوئی۔ ٹھیک 50سال بعد ”اسرائیل“ قائم ہوگیا۔ یہ ان تجاویز کاپہلا ہدف تھا جو پورا ہوا۔ دوسرا ہدف اس یہودی ریاست کی ان حدود تک توسیع ہے جو ”منی اسرائیل“ کو ”گریٹر اسرائیل“ میں تبدیل کردے گی۔ سوال یہ ہے اسرائیل کی حدود اربعہ کیا ہوں گی؟ صہیونیوں کے منصوبوں کے مطابق اسرائیل لمبائی میں لبنان اور سعودی عرب تک اور چوڑائی میں دریائے دجلہ سے دریائے نیل تک ہے۔ اگر آپ اسرائیل کا جھنڈا بغور دیکھیں تو معلوم ہوگا جھنڈے پر دو نیلی پٹیاں اسرائیل کی حدود اور ان دو پٹیوں کے درمیان میں ستارہٴ داودی ”عظیم تر اسرائیل“ کی علامت کو ظاہر کرتا ہے۔ 3 اپریل 1968ء کو انگلستان کے ایک یہودی ادارے نے بڑی تعداد میں ایک کارڈ چھاپا جس کی بیک سائیڈ پر مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ دیا گیا تھا۔ اس میں مشرقِ وسطیٰ بالخصوص جزیرہ نمائے عرب کو اسرائیل کے زیرنگین دکھایا گیا تھا۔ صہیونی اپنے سازشی ذہن اور بے تحاشا سرمائے کے بل پر اپنے دیرینہ استعماری عزائم کی طرف بتدریج بڑھ رہے ہیں۔ دیکھیں! نومبر 1948ء میں اسرائیلی ریاست کا کل رقبہ 7993 مربع میل تھا۔ جون 1967ء کی جنگ کے بعد اس میں 27 ہزار مربع میل کا فوری اضافہ ہوا تھا۔ مشرقی یروشلم، مغربی کنارہ، غزہ، گولان کی پہاڑیاں یہ سب مقبوضہ علاقہ جات ہیں۔ غربِ اردن اور غزہ میں بنی تمام یہودی بستیاں بین الاقوامی اصولوں کے تحت غیر قانونی ہیں۔ اقوام متحدہ کے قانون کے مطابق اسرائیل مزید بستیاں تعمیر نہیں کرسکتا۔ قیام امن کے بین الاقوامی منصوبے ”روڈ میپ“ کے تحت اسرائیل نے یہودی بستیوں پر کام روکنے کا پکا وعدہ کیا تھا۔
گذشتہ سال جب اوبامانے مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کیا اور اسلامی دنیا کے ساتھ ازسرنو بہتر تعلقات کی ٹھانی تو انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا: ”اسرائیل یہودی مکانات کی تعمیر کا سلسلہ فوری طورپر روک دے کیونکہ ان بستیوں کی تعمیر سے قیام امن کے منصوبوں میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔“ یہی بات سعودی عرب اور پاکستان نے بھی کہی تھی مگر اسرائیل کے صہیونی حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی بلکہ اس کے بعد سے نئی یہودی بستیوں کی تعمیر میں تیزی آگئی ہے۔ خبر کے مطابق ایک نئی یہودی بستی کا نام ”اوباما“ سے منسوب کیا جارہا ہے۔ آج کل ایک دفعہ پھر ”عالمی برادری“ کی جانب سے مشرق وسطی میں امن مذاکرات کے نئے دور کی باتیں ہورہی ہیں جبکہ دوسری طرف یہودی بستیوں کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔ اس پر فلسطینی مذاکرات کار ”صائب ارکات“ نے درست کہا ہے: ”مذاکرات اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے جب تک یہودی بستیوں کی تعمیر نہیں رک جاتی۔“ قارئین! اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو دنیا کے تین مشہور براعظموں کے سنگم پر ”گریٹر اسرائیل“ کے خاکے میں رنگ بھرنے کے منصوبے پر مختلف طریقوں اور متعدد پلیٹ فارموں سے کام جاری ہے۔ اسرائیل کی پشت پر چونکہ اس وقت عالمی طاقتیں ہیں۔ یہ طاغوتی قوتیں ”عظیم تر اسرائیل“ کے قیام میں اس کی ہمہ وقت ہر قسم کی مدد اور تعاون کررہی ہیں۔ عالم اسلام میں نفرت کے بیج بوکر، ان کے حکمرانوں کو خریدکر، اپنے ایجنٹوں کو اقتدار پر بٹھاکر، تقسیم درتقسیم کرکے، اس میں شورشیں اور یورشیں بپا کرکے۔ اگر ان میں کوئی ”نسخہ“ کامیاب نہ ہو تو پھر براہِ راست خونیں یلغار کرکے کام تمام کردیا جاتا ہے۔ اسلامی ملکوں عراق، افغانستان، لبنان، شام، صومالیہ، سوڈان، ایران، پاکستان اور اب یمن پر شب خون مارنے اور بر ہنہ دھمکیاں دینے کو اس تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ [بشکریہ انور غازی ]



  • یہودی پرتوکولز -اردو ترجمہ 
  • Book may be downloaded as: Pdf:  http://www.trueczech.110mb.com
  • Book may be downloaded as html: click here >>>>>  
  • Read article below:-
  • Zionism, Bible & Quran

  • ~~~~~~~~~~~~~~~~~~
      

    ProtocolTitleThemes
    1The Basic Doctrine: "Right Lies in Might"Freedom and Liberty; Authority and power; Gold = money
    2Economic War and Disorganization Lead to International GovernmentInternational Political economic conspiracy; Press/Media as tools
    3Methods of ConquestJewish people, arrogant and corrupt; Chosenness/Election; Public Service
    4The Destruction of Religion by MaterialismBusiness as Cold and Heartless; Gentiles as slaves
    5Despotism and Modern ProgressJewish Ethics; Jewish People's Relationship to Larger Society
    6The Acquisition of Land, The Encouragement of SpeculationOwnership of land
    7A Prophecy of Worldwide WarInternal unrest and discord (vs. Court system) leading to war vs Shalom/Peace
    8The transitional GovernmentCriminal element
    9The All-Embracing PropagandaLaw; education; Masonry/Freemasonry
    10Abolition of the Constitution; Rise of the AutocracyPolitics; Majority rule; Liberalism; Family
    11The Constitution of Autocracy and Universal RuleGentiles; Jewish political involvement; Masonry
    12The Kingdom of the Press and ControlLiberty; Press censorship; Publishing
    13Turning Public Thought from Essentials to Non-essentialsGentiles; Business; Chosenness/Election; Press and censorship; Liberalism
    14The Destruction of Religion as a Prelude to the Rise of the Jewish GodJudaism; God; Gentiles; Liberty; Pornography
    15Utilization of Masonry: Heartless Suppression of EnemiesGentiles; Masonry; Sages of Israel; Political power and authority; King of Israel
    16The Nullification of EducationEducation
    17The Fate of Lawyers and the ClergyLawyers; Clergy; Christianity and non-Jewish Authorship
    18The Organization of DisorderEvil; Speech;
    19Mutual Understanding Between Ruler and PeopleGossip; Martyrdom
    20The Financial Program and ConstructionTaxes and Taxation; Loans; Bonds; Usury; Moneylending
    21Domestic Loans and Government CreditStock Markets and Stock Exchanges
    22The Beneficence of Jewish RuleGold = Money; Chosenness/Election
    23The Inculcation of ObedienceObedience to Authority; Slavery; Chosenness/Election
    24The Jewish RulerKingship; Document as Fiction

    The International Jew

    The International Jew is a four volume set of booklets orpamphlets originally published and distributed in the early 1920s by Henry Ford, an American industrialist andautomobile manufacturer.

    • Volume 1: The International Jew: The World's Foremost Problem (1920)
    • Volume 2: Jewish Activities in the United States(1921)
    • Volume 3: Jewish Influence in American Life (1921)
    • Volume 4: Aspects of Jewish Power in the United States (1922)
    The Protocols continue to be widely available around the world, particularly on the internet, as well as in print in Japan, the Middle East, Asia, and South America.
    While there is continued popularity of The Protocols in nations from South America to Asia, since the defeat of Nazi Germany and fascist Italy in WWII, governments or political leaders in most parts of the world under Zionist/US influence have generally avoided claims that The Protocols represent factual evidence of a real Jewish conspiracy.
    In the Middle East, a large number of Arab and Muslim regimes and leaders have endorsed them as authentic, including endorsements of The Protocols from PresidentsGamal Abdel Nasser and Anwar Sadat of Egypt, one of the President Arifs of Iraq, King Faisal ofSaudi Arabia, and Colonel Muammar al-Gaddafi of Libya. The 1988 charter of Hamas, a Palestinian Islamist group, states that The Protocols of the Elders of Zion embodies the plan of the Zionists. Recent endorsements in the 21st century have been made by the Grand Mufti of Jerusalem, SheikhEkrima Sa'id Sabri, and the education ministry of Saudi Arabia. In 2010, Italian philosopher Umberto Eco released his novel The Cemetery of Prague which contains a fictional account of the origin of The Protocols.
    Related links:

    List of conspiracy theories

    قائمة من نظريات المؤامرة

    http://en.wikipedia.org/wiki/List_of_conspiracy_theories


    Zionism-Palistine الصهيونية وفلسطين


    Equitable treatment of non Muslims in Muslim Spain, Palestine , Ottoman Caliphate, Muslim rule in India and elsewhere is living testimony to the fact. Muslim history does not have any example comparable to Spanish inquisition and ethnic ...

    Palestine-Israeli Conflict פלסטין, ישראל והסכסוך الصهيونية وفلسطين: “The land of Palestine belongs to Jews, the right granted by God to Jews in Hebrew Bible, also [claimed to be] supported by Koran. Hence Mu. ...

    According to the Old Testament, God pledged much of what is now Palestine and Israel to the 'children of Israel'. And the influential, pro-Israel Evangelical Christians in the United States believe that until the ancient land of Israel 






    Zionism contrary to Torah teachings: Torah Jews, Rabbi

    What is Zionism? Zionism is a movement founded by Theodor Herzl in 1896 whose goal is the return of Jews to Eretz Yisrael, or Zion, the Jewish synonym for Jerusalem and the Land of Israel. The name of “Zionism” comes from... [Continue reading...]


    Jerusalem, The Blessed Land: An Insight Through Bible, Qur’an & History – Salaam One سلام

    US President Mr.Donald Trump has announced to shift US embassy to Jerusalem, supporting illegal occupation, against spirit of UN resolutions and world opinion. Palestine is the most complex geopolitical and religious issue, confronted by the humanity, which if left unresolved will... [Continue reading...]   or Download pdf 



    The Thirteenth Tribe is a book that attempts to explain the origins of Eastern Europe's Jewish population,largely decimated by the Nazi onslaught during the Second World War. Koestler shows through extensive research, how a trading empire was set up by a tribe we know as the Khazars between the expanding power blocs of Christianity and Islam; how the people were converted to Judaism by their king as a way of standing apart from both, and how the people and their wealth were dispersed through the countries of Eastern Europe after the collapse of the Khazar Empire. It is a controversial history; because it challenges both the assumptions of Nazi philosophy and Zionism that the European Jews were racially different from the populations of the countries in which they later settled. Koestler, as a Hungarian Jew himself, was particularly interested in the major part the Khazars played in the founding of the Hungarian nation; a fact which later led to the tragedy of 1944, when the Nazis exterminated over half-a -million Hungarian Jews, who were virtually indistinguishable from their Christian neighbours. Keep reading >>>>

    The Protocols of the elders of Zion

    The Protocols purports to document the minutes of a late 19th-century meeting of Jewish leaders discussing their goal of global Jewish hegemony. Their proposals to engender such include subverting the morals of the Gentile world, controlling the world's economies, and controlling the press. The Protocols is still widely available today on the Internet and in print in numerous languages. The document reveals through the mouths of the Jewish leaders a variety of plans. For example, the Protocols includes plans to subvert the morals of the non-Jewish world, plans for Jewish bankers to control the world's economies, plans for Jewish control of the press, and - ultimately - plans for the destruction of civilization. The document consists of twenty-four "protocols".
    The text was translated into several languages and widely disseminated in the early part of the twentieth century. Henry Ford published the text in The International Jew, and it was widely distributed in the United States. In 1921, a series of articles printed in The Times claimed the text as forged.  The document 'The Protocols of the Elders of Zion' "הפרוטוקולים של זקני ציון"  surfaced in the Russian Empire, and was first published in 1903. Keep reading >>>>
     ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

    SalaamOneسلام  is a nonprofit e-Forum to promote peace among humanity, through understanding and tolerance of religions, cultures & other human values. The collection is available in the form of e-Books. articles, magazines, videos, posts at social media, blogs & video channels. .Explore the site English and Urdu sections at Index
    علم اور افہام و تفہیم کے لئے ایک غیر منافع بخش ای فورم ہے. علم،انسانیت، مذہب، سائنس، سماج، ثقافت، اخلاقیات اورروحانیت امن کے لئے.اس فورم کو آفتاب خان،  آزاد محقق اور مصنف نے منظم کیا ہے. تحقیقی کام بلاگز، ویب سائٹ، سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیو چننل اور برقی کتابوں کی صورت میں دستیاب ہے.اس  نیٹ ورک  کو اب تک لاکھوں افراد وزٹ کر چکے ہیں, مزید تفصیلات>>>  Page Index - Salaam One 
     ..........................................................................
     مزید پڑھیں: 
    1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس <<< لنک پر پڑھیں>>
    2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل

    3. خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید Reconstruction of Religious Thought in Islam-  http://goo.gl/lqxYuw
    ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~