"متواتر حدیث " کے اللہ کے رسول ﷺ کا کلام ہونے میں عتبار ہوتا ہے "صحیح" ظنی الثبوت ہوتی ہے۔ یعنی اس کے رسول ﷺ سے ثابت ہونے کا غالب گمان (Strong probability) ہوتا ہے، لیکن اس میں متواتر جیسا درجہ نہیں ہوتا کیونکہ راوی انسان ہے اور اس سے غلطی کا ایک معمولی سا امکان رہتا ہے۔
احادیث کے ذخیرے میں صحیح احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کتبِ احادیث (بخاری، مسلم وغیرہ) کا بڑا حصہ ٩٩% اسی پر مشتمل ہے۔
جن کو "صحیح احادیث" کہتے ہیں وہ ظنی ہیں مگر "متواتر حدیث " تھوڑی ہیں . جب تک دیے گیے اصولوں ١ کی بنیاد پر کام مکمل نہیں ہوتا "متواتراحادیث " سے فائدہ لیا جا سکتا ہے.
